30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوڑ دینا ہی بہتر ہے،چنانچہ فرمایا گیا کہ اے مُخاطَب! تمہیں معلوم نہیں ،ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے کے بعد شوہرکے دل میں عورت کی طرف میلان پیدا فرمادے اوراسے اپنے فعل پر ندامت محسوس ہو اور رجوع کرنے کی طرف مائل ہو،اس لئے اگر رجعی طلاق دی ہو گی تو ایسی صورتِ حال میں رجوع کرناآسان ہو گا یا تین سے کم طلاقِ بائن دی ہوں توخالی نکاح سے رجوع ہوسکتا ہے۔
طلاق یافتہ عورت سے رجوع کے احکام:
فرمایا:’’ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ ‘‘ جب عورتیں اپنی مدت تک پہنچنے کو ہوں ۔
اس آیت میں طلاق یافتہ عورت سے رجوع کرنے کے احکام بیان کئے گئے ہیں ، چنانچہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق طلاق دی جانے والی عورتیں اپنی عدت کی اختتامی مدت کے قریب تک پہنچ جائیں تو تمہیں اختیار ہے، اگر تم ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور اچھا سلوک کرتے ہوئے رہنا چاہو تو رجوع کرلو اور دل میں دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو اور اگر تمہیں ان کے ساتھ خوبی اور اچھائی سے بسر کرسکنے کی اُمید نہ ہو توان کے حق، جیسے مہر وغیرہ ادا کرکے اُن سے جدائی اختیار کرلو اور انہیں اس طرح نقصان نہ پہنچاؤکہ عدت کے آخر میں رجوع کرلو پھرطلاق دے دو ،یوں اُن کی عدت دراز کرکے انہیں پریشانی میں ڈالو،نیز رجوع کرو یا جدائی اختیار کرو دونوں صورتوں میں تہمت دور کرنے اور جھگڑے سے بچنے کیلئے اپنوں میں سے دو ایسے مسلمانوں کو گواہ بنا لوجو عادل یعنی شرعاً قابلِ قبول ہوں اور گواہ بنانے سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہو اوراس میں حق کو قائم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے علاوہ اپنی کوئی فاسد غرض نہ ہو۔ یہ وہ حکم ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور طلاق دے تو سنت کے مطابق دے، عدت والی کو نقصان نہ پہنچائے ،نہ اُسے رہائش گاہ سے نکالے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کو گواہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا جس سے وہ دنیا و آخرت کے غموں سے خلاصی پائے گااور ہر تنگی و پریشانی سے محفوظ رہے گا ۔(1)
[1] … مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۲۵۱، ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع