30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقِ زوجیَّت ادا نہ کیا ہو تو یہ سب صورتیں طلاقِ بدعت کی ہیں ،اس کا حکم یہ ہے کہ طلاقِ بدعت مکروہ ہے ،مگر واقع ہو جاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گناہگار ہوتاہے۔
(3) وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا جیسے چھوٹی بچی اور حاملہ عورت ،یاآئسہ یعنی جسے بڑھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا ہو،وہ اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔
(4) وہ عورت جس سے اس کے شوہر نے حقِ زوجیَّت ادانہ کیا ہو،اور نہ اسے شوہر کے ساتھ ایسی تنہائی ہوئی ہوجس میں وہ ہم بستری کرسکیں تو اس پر عدت نہیں ہے ،باقی وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا ، ان کی عدت حیض سے شمار نہ ہو گی۔
(5) جس عورت سے حقِ زوجیَّت ادا نہیں کیا گیا اسے حیض کے دنوں میں طلاق دینا جائز ہے۔
عدت شمار کرنے کا حکم:
ارشاد فرمایا:’’ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَۚ ‘‘اور عدت کو شمارکرتے رہو۔
یہاں مَردوں کو حکم دیا گیا کہ طلاق دینے کے بعد عورت کی عدت کو شمارکرتے رہو یہاں تک کہ اسے تین بار حیض آ جائے۔یاد رہے کہ عدت کا شمار مرد و عورت دونوں ہی کریں گے البتہ یہاں بطورِ خاص مَردوں کوعدت شمار کرنے کااس لئے فرمایا گیا کہ عورتوں میں بہت مرتبہ غفلت ہوجاتی ہے۔
خوف خدا کی تاکید:
فرمایا:’’ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْۚ ‘‘ اور اللہ سے ڈروجو تمہارا رب ہے۔
یعنی عورتوں کی عدت دراز کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف وزری کرنے کے معاملے میں اس اللہ تعالیٰ سے ڈروجو تمہارا حقیقی رب ہے۔
دوران عدت عورت کوگھر سے نہ نکالا جائے:
فرمایا:’’ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ ‘‘ تم عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو۔‘‘
یعنی اے لوگو!عدت کے دنوں میں عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ اس دوران وہ خود اپنی رہائش گاہ سے نکلیں ،البتہ اگر وہ کسی صریح بے حیائی کا اِرتکاب کریں اوراُن سے کوئی اعلانیہ فسق صادر ہو جس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع