30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصیحت کی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اس حکم پر عمل کرنا تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی و طہارت کا باعث ہے کیونکہ بعض اوقات سابقہ تعلقات کی وجہ سے عورتیں غلط قدم بھی اٹھالیتی ہیں جو بعد میں سب کیلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے ،اس لئے عورتوں کو مزید نکاح سے بلاوجہ منع نہ کرو۔ تمہاری حقیقی حکمت و مصلحت کو تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اگر عورت غیر کُفو میں بغیر اجازتِ ولی نکاح کرے تو وہاں اولیاء کا حق ہوتا ہے۔ تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 7میں ’’کفو کا بیان ‘‘ مطالعہ کریں۔
ازدواجی تعلق قائم کرنے سے پہلے دی جانے والی طلاق کا شرعی حکم
ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَاۚ-فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا(۴۹)(1)
ترجمہ : اے ایمان والو!جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دیدو تو ان پرتمہاری وجہ سے کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو تو انہیں فائدہ پہنچاؤ اور انہیں اچھے طریقے سے چھوڑو۔
اس آیت میں بیان ہوا کہ اگر عورت کو ازدواجی تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دی تو اس پر عدت واجب نہیں ۔یہاں اس سے متعلق مزید دو مسائل بھی ملاحظہ ہوں:
(1) خَلْوَتِ صحیحہ قربت کے حکم میں ہے، تو اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدت واجب ہوگی اگرچہ ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو ۔
(2) یہ حکم مومنہ اور کتابیہ دونوں عورتوں کو عام ہے ،لیکن آیت میں مومنات کا ذکر فرمانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مومنہ سے نکاح کرنا اَولی ہے ۔
نوٹ:یاد رہے کہ فی زمانہ تمام اہلِ کتاب حربی ہیں اور حربیہ کتابیہ سے نکاح جائز نہیں بلکہ ممنوع اور گناہ ہے لیکن اگرکر لیا تو نکاح ہو جائے گا اوریہ حکم بھی اس وقت ہے کہ واقعی کتابیہ ہو اور اگر نام کی کتابیہ حقیقت میں لامذہب دَہْرِیَّہ ہے تو اس سے نکاح اصلا ًنہ ہوگا ۔
مزید فرمایا:’’ فَمَتِّعُوْهُنَّ ‘‘ تو انہیں فائدہ پہنچاؤ۔
[1] … پ22، الاحزاب:49
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع