30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں یہ سب وضاحت اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض لوگ دینی مسائل کو مذاق بنا لیتے ہیں۔ بالخصوص جو دین دشمن اور دین بیزار لوگ ہوتے ہیں، وہ اُن چیزوں کو کہ جنہیں خدا نے ظلم کے خاتمے کا ذریعہ بنایا، معاذ اللہ اُسی کو ظلم کی تصویر بنا کر پیش کرتے ہیں۔جبکہ اِس طلاق والے مسئلہ کی حقیقی صورتِ حال یہی ہے، جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے، کہ اِس میں ظلم نہیں ہے، بلکہ عورت کو اُس کے حقوق کی فراہمی کا بیان ہے۔مگر آیت کی اِس حقیقت کا اِدراک دانش مندوں کے لیے ہے، دین بیزاروں کے لیے نہیں۔
مرد و عورت کے دوبارہ نکاح پر سرپرستوں کی رہنمائی
ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۳۲) (1)
ترجمہ : اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی(عدت کی) مدت پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والیو! انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوجائیں۔یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ کام ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
شانِ نزول:
حضرت مَعْقِل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہوا تھا انہوں نے ایک طلاق دیدی لیکن عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے نکاح کی درخواست کی تو حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(2)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی عورت کی عدت گزر جائے اور عدت کے بعد وہ عورت کسی سے نکاح کا ارادہ کرے خواہ وہ کوئی نیا آدمی ہو یا وہی ہو جس نے طلاق دی تھی تو اگر وہ مردو عورت باہم رضامند ہیں تو عورت کے سرپرستوں کو بلاوجہ منع کرنے کا حق نہیں۔ اس حکم کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ ہر اس آدمی کو
[1] … پ2،البقرہ:232
[2] … بخاری ، کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الّا بولیّ، ۳/۴۴۲، الحدیث: ۵۱۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع