30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں شوہر بیوی کو ایک طلاق دیتا، جب اُس کی عدت مکمل ہونے والی ہوتی تو فوراً رجوع کر لیتا، پھر دوبارہ طلاق دیتا، پھر اختتامِ عدت کے قریب رجوع کر لیتا، مسلسل اِس حرکت کے ذریعے عورتوں کو برسوں لٹکا کر رکھا جاتا، کہ جب بھی طلاق دیں گے، رجوع کر لیں گے، چنانچہ اِس انداز میں اُنہوں نے عورتوں کی زندگیوں کو عذاب بنا رکھا تھا،چنانچہ زمانہ نبوی میں ایسا ہی ایک واقعہ ہوا کہ ایک عورت نے سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ اس کو طلاق دیتا رہے گا اور رجوع کرتا رہے گا اور ہر مرتبہ جب طلاق کی عدت گزرنے کے قریب ہوگی تورجوع کرلے گا اور پھر طلاق دیدے گا، اسی طرح عمر بھر اس کو قید رکھے گا اس پرقرآن کی آیت نازل ہوئی۔(1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ- ۔۔۔۔۔۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۲۹) (2)
ترجمہ :طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔یہ اللہ کی حدیں ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے طلاق اور رجوع کے لامتناہی سلسلے کو روکا اور یہ حکم نازل فرمایا کہ مرد کو دو طلاقوں تک رجوع کا اختیار رہے گا، لیکن جیسے ہی تیسری طلاق دی تو معاملہ ختم ہو جائے گااور اب صرف شوہر کے ہاتھ کا اختیار ختم ہوجائے گا اور دوبارہ ملاپ میں شوہر کی رضا کی طرح بیوی کو بھی اپنی مرضی کا برابر حق حاصل ہوجائے گا۔
تین طلاقوں کے بعد
ارشاد فرمایا:
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ
ترجمہ : پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہراگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں
[1] … البحر المحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۹، ۲ / ۲۰۲
[2] … پ2،البقرہ:229-230
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع