30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کپڑا پہنچاتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے۔۔زید اس صورت میں گناہگار ہے یا نہیں ۔اس کے جواب میں ہندہ اور زید کا نکاح باقی ہونے کی دلیل بیان کرنے کے بعداعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جب نکاح باقی ہے، تو اس صورت میں زید پرفرض ہے کہ یا تو اسے طلاق دے دے یا اس کے نان نفقہ کی خبر گیری کرے، ورنہ یو ں معلق رکھنے میں زید بے شک گنہگار ہےاور صریح حکمِ قرآن کاخلاف کر نے والا۔(1)
رجعی طلاقوں کی تعداد
ارشاد فرمایا:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ- (2)
ترجمہ : طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔
شان نزول:
ایک عورت نے سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اس کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ اس کو طلاق دیتا رہے گا اور رجوع کرتا رہے گا اور ہر مرتبہ جب طلاق کی عدت گزرنے کے قریب ہوگی تورجوع کرلے گا اور پھر طلاق دیدے گا، اسی طرح عمر بھر اس کو قید رکھے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(3)
اور ارشاد فرمادیا کہ طلاق رَجعی دو بار تک ہے اس کے بعد طلاق دینے پررجوع کا حق نہیں۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مرد کو طلاق دینے کا اختیار دو بار تک ہے۔ اگر تیسری طلاق دی تو عورت شوہر پر حرام ہوجائے گی اور جب تک پہلے شوہر کی عدت گزار کر کسی دوسرے شوہر سے نکاح اور ہم بستری کے بعد طلاق پا کر عدت نہ گزار لے تب تک پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی۔ لہٰذا ایک طلاق یا دو طلاق کے بعد رجوع کرکے اچھے طریقے سے اسے رکھ لو اور یا طلاق دے کر اسے چھوڑ دو تاکہ عورت اپنا کوئی دوسرا انتظام کرسکے۔ اچھے طریقے سے روکنے سے مرا د رجوع کرکے روک لینا ہے اور اچھے طریقے سے چھوڑ دینے سے مراد ہے کہ طلاق دے کر عدت ختم ہونے دے کہ اس طرح ایک طلاق بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔
شریعت نے طلاق دینے اور نہ دینے کی دونوں صورتوں میں بھلائی اور خیرخواہی کا فرمایا ہے۔ ہمارے
[1] … فتاویٰ رضویہ، 13/435
[2] … پ2،البقرہ:229
[3] … البحر المحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۹، ۲ / ۲۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع