30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورتوں سے متعلق مردوں کو تاکید:
فرمایا:’’ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا ‘‘اور اگر تم نیکی کرو۔
یہاں بطورِ خاص عورتوں کے حوالے سے فرمایا گیا کہ اے مَردو! اگر تم نیکی اور خوف ِ خدا اختیار کرو اور نامرغوب ہونے کے باوجود اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں اوریہ جان کرحسن سلوک کرتے رہو تو اللہ عزّوجلّ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
بیویوں کے لازمی حقوق میں یکساں برتاؤ کرنے کا حکم
ارشاد فرمایا:
وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِؕ-وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۲۹)(1)
ترجمہ : اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اگرچہ تم کتنی ہی (اس کی) حرص کرو تو یہ نہ کروکہ (ایک ہی بیوی کی طرف) پورے پورے جھک جاؤ اور دوسری لٹکتی ہوئی چھوڑ دو اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری اختیارکرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
فرمایا:’’ وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ ‘‘ اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو۔
دین ِ اسلام نے انسانی نفسیات و مزاج کا خیال رکھتے ہوئے، ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دی ہے لیکن اس اجازت کو عدل و انصاف کے ساتھ مشروط کیا ہے کہ ایک سے زائد شادیاں کرنا اسی صورت میں جائز ہے جب بیویوں میں عدل کرسکو ورنہ ایک سے زائد شادیوں کی اجازت نہیں۔ البتہ سو فیصد عدل اور برابری تو تقریبا ناممکن ہے اس لئے اس کی حد بندی کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہاری ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تویہ تمہاری قدرت میں نہیں کہ ہر چیز میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی چیز میں ایک کو دوسری پر ترجیح نہ ہونے دو، نہ میلان و محبت میں اور نہ خواہش ور غبت میں اور نہ نظر وتوجہ میں ، تم کوشش کرکے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہاری قدرت میں نہیں
[1] … پ5،النساء:129
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع