30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۲۸)(1)
کاموں کی خبر ہے۔
فرمایا:’’ وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا ‘‘ اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی کا اندیشہ ہو۔
قرآن نے گھریلو زندگی اور معاشرتی برائیوں کی اصلاح پر بہت زور دیا ہے اسی لئے جو گناہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اور جو چیزیں خاندانی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں اور خرابیوں کو جنم دیتی ہیں ان کی قرآن میں بار بار اصلاح فرمائی گئی ہے جیسا کہ یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو، زیادتی تو اس طرح کہ شوہر اس سے علیحدہ رہے، کھانے پہننے کو نہ دے یا اس میں کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اِعراض یعنی منہ پھیرنایہ کہ بیوی سے محبت نہ رکھے، بول چال ترک کردے یا کم کردے۔تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں اِفہام و تفہیم سے صلح کرلیں جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عورت شوہر سے اپنے مُطالبات کچھ کم کردے اور اپنے کچھ حقوق کا بوجھ کم کردے اور شوہر یوں کرے کہ باوجود رغبت کم ہونے کے اس بیوی سے اچھا برتاؤ بَہ تکلف کرے۔ یہ نہیں کہ عورت ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ مردو عورت کا یوں آپس میں صلح کرلینا زیادتی کرنے اور جدائی ہوجانے دونوں سے بہتر ہے کیونکہ طلاق اگرچہ بعض صورتوں میں جائز ہے مگر اللہ عزّوجلّ کی بارگاہ میں نہایت ناپسندیدہ چیز ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسند چیز طلاق دینا ہے۔(2)
دل لالچ کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں :
فرمایا:’’ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ ‘‘اور دل کو لالچ کے قریب کردیا گیا ہے۔
میاں بیوی کے اعتبار سے بھی اور اس سے ہٹ کر بھی معاملہ یہ ہے کہ دل لالچ کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں، ہر ایک اپنی راحت و آسائش چاہتا ہے اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کرکے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔ لہٰذا جو شخص دوسرے کی راحت کو مقدم رکھتا ہے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو سکون پہنچاتا ہے وہ بہت باہمت ہے۔
[1] … پ5،النساء:128
[2] … ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب کراہیۃ الطلاق، ۲/۳۷۰، الحدیث: ۲۱۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع