30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔(1)
(13)اگر معاملہ سلجھانے کی صلاحیت نہ ہو ، تو کسی اہل کی طرف ریفر کرنا:اگر فیصلہ کرنے والوں میں اس معاملے کو سلجھانے کی صلاحیت ہی نہ ہو، تو انہیں خود جرگے وغیرہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کی بجائے یہ کرنا چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق اس کے حل کے لیے فریقین کو کسی بھی صحیح العقیدہ، سمجھدار مفتی صاحب یا عالمِ دین کے پاس لے جائیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۳)(2)
ترجمہ : اگر اس بات کو رسول اور اپنے بااختیار لوگوں(جیسے اکابر صحابہ جو صاحبِ رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں) کی خدمت میں پیش کرتے ،تو ضرور اُن میں سے نتیجہ نکالنے کی صلاحیت رکھنے والے اُس (خبر کی حقیقت) کوجان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم میں سے چند ایک کے علاوہ سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔
(14)فیصلے کی حدود:ان دونوں کو میان بیوی میں خود سے ہی جدائی کروا دینے کا اختیار نہیں اور نہ ہی وہ اس کے مالک ہوتے ہیں۔ تفسیر طبری میں ہے: ترجمہ : میاں بیوی میں جدائی کرانا ، ا ن کے ہاتھ میں نہیں اور نہ ہی وہ اس کے مالک ہیں۔(3)
گھریلو زندگی میں بگاڑ کے ایک بڑے سبب کی اصلاح
ارشاد فرمایا:
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ-وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ-وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ
ترجمہ : اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہترہے اور دل کو لالچ کے قریب کردیا گیا ہے۔ اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری اختیار کرو تو اللہ کو تمہارے
[1] … جامع ترمذی، ج4،ص367، رقم الحدیث2012، مطبوعہ مصر
[2] … پ5، النساء:83
[3] … تفسیر طبری، ج8،ص719، مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع