30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی جب گناہ کے بعدتوبہ کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرما لیتا ہے تو تمہیں بھی چاہئے کہ تمہاری زیر دست عورت جب قصور کرنے کے بعد معافی طلب کرے اور نافرمانی چھوڑ کر اطاعت گزار بن جائے تو اس کی معذرت قبول کرلو اور توبہ کے بعد اسے تنگ نہ کرو۔
بیوی جب اپنی غلطی کی معافی مانگے تو اسے معاف کر دیا جائے:
اِس آیت سے اُن لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو عورت کے ہزار بار معذرت کرنے، گڑ گڑا کر پاؤں پڑنے، طرح طرح کے واسطے دینے کے باوجود اپنی ناک نیچی نہیں کرتے اور صنف ِنازک کو مَشقِ ستم بنا کر اپنی بزدلی کو بہادری سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِن بہادروں کو عاجزی اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میاں بیوی میں کے قریبی رشتہ دار صلح کرانے کی کوشش کریں
ارشاد فرمایا:
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا(۳۵)(1)
ترجمہ :اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک مُنْصِفْ مرد کے گھروالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک مُنْصِفْ عورت کے گھروالوں کی طرف سے (بھیجو) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا ،خبردار ہے۔
آیت کے شروع میں فرمایا:’’ وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا ‘‘اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو۔
جب بیوی کو سمجھانے، الگ رکھنے اور مارنے کے باجود اصلاح کی صورت نہ بن رہی ہو تو نہ مرد طلاق دینے میں جلدی کرے ،نہ عورت خُلع کے مطالبے پر اِصرار کرے بلکہ دونوں کے خاندان کے خاص قریبی رشتہ داروں میں سے ایک ایک شخص کو مُنصِف مقرر کر لیا جائےاس کا فائدہ یہ ہو گا کہ چونکہ رشتے دار ایک دوسرے کے خانگی معاملات سے واقف ہوتے ہیں ، فریقَین کو ان پر اطمینان ہوتا ہے اور ان سے اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی جھجک بھی نہیں ہوتی، یہ منصف مناسب طریقے سے ان کے مسئلے کا حل نکال لیں گے اور اگر منصف ،میاں بیوی میں صلح کروانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے مابین اتفاق پیدا کر دے گا اس لئے حتّی
[1] … پ5، النساء:35
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع