30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے ۔یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اس نے حکم دے دیا کہ جو بچہ پیدا ہو، قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کر دیا گیا ۔ تقدیراتِ الہیہ کو کون ٹال سکتا ہے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آ گیا ،لیکن چونکہ حضرت کی والدہ صاحبہ کی عمر کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا، جب زمانۂ ولادت قریب ہوا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا ، وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے ، پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ، روزانہ والدہ صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ اپنی سرِ انگشت(یعنی انگلی کا کنارہ) چوس رہے ہیں اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے ، آپ بہت جلد بڑھتے تھے ، ایک مہینہ میں اتنا جتنے دوسرے بچے ایک سال میں۔۔۔ ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دریافت فرمایا: میرا ربّ (پالنے والا) کون ہے ؟ انہوں نے کہا: میں ۔فرمایا: تمہارا ربّ کون ہے ؟ انہوں نے کہا :تمہارے والد۔ فرمایا: ان کا ربّ کون ہے ؟ اس پر والدہ نے کہا: خاموش رہو اور اپنے شوہر سے جا کر کہا کہ جس لڑکے کی نسبت یہ مشہور ہے کہ وہ زمین والوں کا دین بدل دے گا وہ تمہارا فرزند ہی ہے اور یہ گفتگو بیان کی ۔(1)
والدہ کی آگ سے حفاظت:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا اور آگ گلزار بن گئی تو اس وقت آپ کی والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کو آگ میں دیکھ کر ندا دی کہ اے میرے بیٹے تم دعا کرو کہ یہ آگ مجھےبھی کچھ نہ کہے، تو آپ نے دعا کی اور دعا قبول ہوئی، توآپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ آگ میں گئیں اور آگ نے انہیں کچھ نہ کہا ،انہوں نے آپ علیہ السلام کو سینے سے لگایا اور بوسہ دیا اور واپس تشریف لے آئیں۔(2)
والدین کے لیے دعائے مغفرت:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ اور والد دونوں کے لئے دعائے مغفرت کی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمہ : اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب
[1] … تفسیر خزائن العرفان زیر آیت سورۃ الانعام ۷۶
[2] … قصص الانبیاء،1/184
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع