30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصل ہے گویا کہ عورت رعایا اور مرد بادشاہ، ا س لئے عورت پر مرد کی اطاعت لازم ہے ،اس سے ایک بات یہ واضح ہوئی کہ میاں بیوی کے حقوق ایک جیسے نہیں بلکہ مرد کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں اور ایسا ہونا عورت کے ساتھ نا انصافی یا ظلم نہیں بلکہ عین انصاف اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے ۔
شانِ نزول:
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی حبیبہ کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مارا جس سے ان کے چہرے پر نشان پڑ گیا، یہ اپنے والد کے ساتھ حضورسیدُ المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں اپنے شوہر کی شکایت کرنے حاضر ہوئیں۔ سرور ِدوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قصاص لینے کا حکم فرمایا، تب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قصاص لینے سے منع فرما دیا۔(1) لیکن یہ یاد رہے کہ عورت کو ایسا مارنا ناجائز ہے۔
فرمایا:’’ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ ‘‘ اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔
مرد کو عورت پر جو حکمرانی عطا ہوئی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔
مرد کے عورت سے مقدم ہونے کی وجوہات:
مرد کے عورت سے مقدم ہونے کی وجوہات کثیر ہیں ، ان سب کا حاصل دو چیزیں ہیں علم اور قدرت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد عقل اور علم میں عورت سے فائق ہوتے ہیں ، اگرچہ بعض جگہ عورتیں بڑھ جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ابھی بھی پوری دنیا پر نگاہ ڈالیں تو عقل کے امور مردوں ہی کے سپرد ہوتے ہیں۔ یونہی مشکل ترین اعمال سرانجام دینے پر انہیں قدرت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ مرد عقل و دانائی اور قوت میں عورتوں سے فَوقِیّت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ جتنے بھی انبیاء، خُلفاء اور ائمہ ہوئے سب مرد ہی تھے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی اور جہاد مرد کرتے ہیں۔ امامت ِ کُبریٰ یعنی حکومت وسلطنت اور امامت ِصغریٰ یعنی نماز کی امامت یونہی اذان، خطبہ ، حدود و قصاص میں گواہی بالاتفاق مردوں کے ذمہ ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع اور بیک وقت ایک سے زائد شادیاں کرنے کا حق مرد کے پاس ہے اور نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتے ہیں ، یہ سب قرائن مرد کے عورت سے افضل ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ مردوں کی عورتوں پر حکمرانی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ
[1] … بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۱/۳۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع