30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت کا بیان
ارشاد فرمایا:
حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ- (1)
ترجمہ :ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کوجنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس مہینے ہوئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ (2)
ترجمہ : اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں ۔
تو حمل کے لئے چھ ماہ باقی رہے ۔ یہی قول امام ابویوسف اور امام رحمۃ اللہ علیہ ما کا ہے اور حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس آیت سے رضاعت کی مدت ڈھائی سال ثابت ہوتی ہے ۔
نوٹ:اس مسئلے کی تفصیل دلائل کے ساتھ اصول کی کتابوں میں مذکور ہے ،ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے علماءِ کرام ان کی طرف رجوع فرمائیں اور عوامُ النّاس صحیح العقیدہ مفتیانِ کرام کی طرف رجوع فرمائیں ۔
عورت کو رکھنے یا طلاق دینے کے شرعی حکم اور عورتوں پر ظلم حرام ہونے کا بیان
ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا٘-وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ
ترجمہ : اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اوروہ اپنی (عدت کی اختتامی) مدت (کے قریب) تک پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انہیں نقصان پہنچانے کے لئے نہ روک رکھو تاکہ تم(ان پر) زیادتی کرو اور جو ایسا کرے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق نہ بنالو اور اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو اور اس نے تم پر جو کتاب اور حکمت
[1] … پ26، الاحقاف:15
[2] … پ۲،البقرہ:۲۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع