30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَاۚ-لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖۗ-وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَۚ-فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاؕ-وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۳۳)(1)
اور بچے کے باپ پر رواج کے مطابق عورتوں کے کھانے اور پہننے کی ذمہ داری ہے۔ کسی جان پر اتنا ہی بوجھ رکھا جائے گا جتنی اس کی طاقت ہو ۔ماں کو اس کی اولاد کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ تکلیف دی جائے اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی (حکم) ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ ( دوسری عورتوں سے) اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی مضائقہ نہیں جب کہ جومعاوضہ دیناتم نے مقرر کیاہو وہ بھلائی کے ساتھ ادا کردو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
اسآیت کا خلاصہ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ دوسال مکمل کرانے کا حکم اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے کیونکہ دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا ناجائز ہوتا ہے اگرچہ اڑھائی سال تک دودھ پلانے سے حرمت ِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور اگر وہ میاں بیوی باہمی مشورے سے کسی اور سے بچے کو دودھ پلوانا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ اس صورت میں دودھ پلانے والی عورت کو اس کی اجرت صحیح طریقے سے ادا کی جائے گی۔ ماں کو اس کی اولاد کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد سے تکلیف دی جائے۔ ماں کو ضَرر دینا یہ ہے کہ جس صورت میں اس پر دودھ پلانا ضروری نہیں اس میں اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے اور باپ کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر ذمہ داری ڈالی جائے۔ یا آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ نہ ماں بچے کو تکلیف دے اور نہ باپ۔ ماں کا بچے کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کو وقت پر دودھ نہ دے اور اس کی نگرانی نہ رکھے یا اپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور باپ کا بچے کو ضرر دینا یہ ہے کہ مانوس بچہ کو ماں سے چھین لے یا ماں کے حق میں کوتاہی کرے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے ۔ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دودھ پلانے کے حوالے سے جو باپ کا قائم مقام ہے اس کا بھی یہی حکم ہے ۔
[1] … پ2،البقرہ:233
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع