30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) اے ایمان والو! جب کفرستان سے مسلمان عورتیں اپنے گھر چھوڑ کر تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کرلیا کرو کہ ان کی ہجرت خالص دین کیلئے ہے ،ایسا تو نہیں ہے کہ اُنہوں نے شوہروں کی عداوت میں گھر چھوڑا ہو اور یاد رکھو کہ ان عورتوں کا امتحان تمہارے علم کے لئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو ان کے ایمان کا حال تم سے بہتر جانتا ہے۔
ان کی جانچ کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے قسم لی جائے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان عورتوں کو قسم دی جائے کہ وہ نہ شوہروں کی عداوت میں نکلی ہیں اور نہ اور کسی دُنْیَوی وجہ سے بلکہ اُنہوں نے صرف اپنے دین و ایمان کیلئے ہجرت کی ہے۔
(2) اگر جانچ کے بعدوہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں ان کے کافرشوہروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ کیونکہ نہ یہ مسلمان عورتیں ان کافروں کیلئے حلال ہیں اورنہ وہ کافر مرد ان مسلمان عورتوں کیلئے حلال ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر کی کافرہ بیوی ایمان لا کر ہجرت کرجائے تووہ اس کافر کے نکاح سے نکل جائے گی۔
(3) ا ن کے کافر شوہروں کووہ حق مہر دیدو جو انہوں نے ان عورتوں کو دئیے تھے۔ شانِ نزول: یہ آیت صلحِ حُدَیْبیہ کے بعد نازل ہوئی ،صلح میں یہ شرط تھی کہ مکہ والوں میں سے جو شخص ایمان لا کرسرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اس کو اہلِ مکہ واپس لے سکتے ہیں اور اس آیت میں یہ بیان فرمادیا گیا کہ یہ شرط صرف مردوں کیلئے ہے، عورتوں کی تصریح عہد نامہ میں نہیں اورنہ عورتیں اس قرارداد میں داخل ہوسکتی ہیں کیونکہ مسلمان عورت کافر کیلئے حلال نہیں ۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت کا یہ حصہ پہلے حکم (یعنی انہیں ان کے کافرشوہروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ) کا ناسخ ہے۔
یہ قول اس صورت میں درست ہے کہ عورتیں صلح کے عہد میں داخل ہوں، لیکن عورتوں کا اس عہد میں داخل ہونا صحیح نہیں کیونکہ بخاری شریف میں عہد نامہ کے یہ الفاظ مروی ہیں: ” لَایَاتِیْکَ مِنَّا رَجُلٌ وَاِنْ کَانَ عَلٰی دِیْنِکَ اِلَّا رَدَدْتَہٗ “ یعنی ہم سے جو مرد آپ کے پاس پہنچے خواہ وہ آپ کے دین ہی پر ہو آپ اس کو واپس دیں گے۔(1) ان میں عورت کا ذکر نہیں ہے۔
[1] … بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب… الخ، ۲/۲۲۳، الحدیث: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع