30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِس معاملہ میں سختی کرے، پھر اگر تم آپس میں یہ معاملہ طے کرنے میں دشواری سمجھو اوربچے کی ماں کسی دوسری عورت کے برابر اُجرت پر راضی نہ ہوبلکہ زیادہ اجرت کا مطالبہ کرے اور باپ زیادہ دینا نہ چاہے تو قریب ہے کہ اسے کوئی اورعورت دودھ پلادے گی یعنی پھر شوہر کسی دوسری کا انتظام کرلے۔(1)
طلاق یافتہ عورت کی رہائش اور نفقہ دینے سے متعلق مسائل:
(1) طلاق دی ہوئی عورت کو عدت پوری ہونے تک رہنے کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق مکان دینا شوہر پر واجب ہے اور عدت کے زمانہ میں نفقہ یعنی اخراجات دینا بھی واجب ہے۔
(2) نفقہ جیسے حاملہ عورت کو دینا واجب ہے ایسے ہی غیر حاملہ کو بھی دینا واجب ہے خواہ اسے طلاق رجعی دی ہو یا بائن۔
فرمایا:’’ لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖؕ ‘‘مالی وسعت رکھنے والے کو چاہئے کہ اپنی گنجائش کے مطابق خرچ کرے۔
یعنی مالی وسعت رکھنے والا اپنی گنجائش کے مطابق اور تنگدستی میں مبتلا شخص اپنی حیثیت کے مطابق طلاق والی اور دود ھ پلانے والی عورتوں کو خرچہ دے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرجان پر اسی قابل بوجھ رکھتا ہے جتنا اسے رزق دیا ہے اور تنگدست آدمی خرچ کرنے سے ڈرے نہیں ، جلد ہی اللہ تعالیٰ معاش کی تنگی کے بعد اسے آسانی عطا فرمادے گا۔
بیوی کو سال بھر کا نفقہ دینے کی وصیت اور اس کا نسخ
ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ۚۖ-وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍۚ-فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۴۰)(2)
ترجمہ : اور جو تم میں مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے لئے (انہیں گھروں سے) نکالے بغیر سال بھر تک خرچہ دینے کی وصیت کرجائیں پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس معاملے میں کوئی گرفت نہیں جو وہ اپنے بارے میں شریعت کے مطابق کریں اور اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔
[1] … مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۲۵۳، خازن، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۸۰، ملتقطاً
[2] … پ2، البقرہ: 240
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع