30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت سے اس کا مہر واپس نہ لینے کا حکم
ارشاد فرمایا:
وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍۙ-وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْــٴًـاؕ-اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(۲۰) (1)
ترجمہ : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم کوئی جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ کے مرتکب ہو کر وہ لو گے۔
ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارا ارادہ بیوی کو چھوڑنے کا ہو تو مہر کی صورت میں جومال تم اسے دے چکے ہو تواس میں سے کچھ واپس نہ لو ۔ا ہلِ عرب میں یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت انہیں پسند آجاتی تو ا پنی بیوی پر جھوٹی تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس کردے اور طلاق حاصل کر لے۔(2)
اسی کو فرمایا کہ کیا تم بہتان اور گناہ کے ذریعے ان سے مال لینا چاہتے ہو، یہ حرام ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ صفحہ 339 پرسورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 229کی تفسیر میں وضاحت سے ہم نے خُلع اور دیگر صورتوں میں مال لینے اور نہ لینے کی صورتیں بیان کی ہیں۔ اس کا مطالعہ یہاں بھی کرلینا چاہیے۔
زیادہ مہر مقرر کرنا جائز ہے:
اس آیت میں ڈھیروں مال دینے کا تذکرہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ مہر مقرر کرنا جائز ہے اگرچہ بہتر کم مہر ہے یا اتنا مہر کہ جس کی ادائیگی آسان ہو۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ برسر منبر فرمایا: عورت کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو۔ ایک عورت نے یہی آیت پڑھ کر کہا : اے امیر المؤمنین! اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو۔ اس پر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمر! تم سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے (اے لوگو!) تم جو چاہو مہر مقرر کرو۔(3) سُبْحَانَ اللہ! حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شانِ انصاف اور طہارتِ نفس کس قدر اعلیٰ تھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
[1] … پ4،النساء:20
[2] … بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۲/۱۶۳
[3] … مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۲۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع