30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت نوح علیہ السلام کی والدہ
حضرت نوح علیہ السلام کے والد ماجد کا نام لَامَک یا لامَخ ہے۔میم پر زیر بھی پڑھ سکتے ہیں؛جبکہ آپ علیہ السلام کی والدہ کے نام میں دو مشہور قول یہ ہیں : (1) قیثوش بن برکاییل (2) شمحا بن آنوش۔ حضرت نوح علیہ السلام کے ماں باپ دونوں مومن تھے۔ (1)
والدین کے لیے دعائے مغفرت:
حضرت نوح علیہ السلام نے کفار کے خلاف ہلاکت کی دعا کی کہ اے اللہ روئے زمین پر کسی کافر کو باقی نہ چھوڑنا۔ اس دعا کے بعدآپ علیہ السلام نے اپنے لئے، اپنے والدین اور مومن مَردوں اور عورتوں کے لئے دعا کی:
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ- (2)
ترجمہ : اے میرے رب !مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں حالتِ ایمان میں داخل ہونے والے کو اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کوبخش دے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفار کو عذاب سے ہلاک کردیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے جو دعا مسلمانوں کے بارے میں فرمائی اسے اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے۔(3)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی والدہ اور والد دونوں مومن تھے ، کیونکہ مغفرت کی دعا مومنوں ہی کے لئے کی جاسکتی ہے۔ آیت سےیہ بھی معلوم ہوا کہ انتقال کر جانے والے مسلمانوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنی چاہئے کہ اس سے انہیں فائدہ ہو تا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے کہ ماں، باپ، بھائی یا دوست کی دعائے خیر پہنچنے کی منتظر رہتی ہے،پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو پہاڑوں کی مانند
[1] … عمدۃ القاری،جلد:۱۵،ص:۲۹۸
[2] …پ29، نوح:28
[3] … خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴ / ۳۱۴-۳۱۵، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۱۲۸۶، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع