30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً ۚۖ-وَّ مَتِّعُوْهُنَّۚ-عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗۚ-مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِۚ-حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ(۲۳۶)(1)
ہو یا کوئی مہر نہ مقرر کرلیا ہو تب تک تم پر کچھ مطالبہ نہیں اور ان کو (ایک جوڑا) برتنے کو دو ۔ مالدار پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی طاقت کے مطابق دینا لازم ہے۔ شرعی دستور کے مطابق انہیں فائدہ پہنچاؤ ،یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے۔
اسآیت میں مہر کے چند مسائل کا بیان ہے:
(1)جس عور ت کا مہر مقرر کئے بغیر نکاح کردیا گیاہو، اگر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی تو کوئی مہر لازم نہیں ،ہاتھ لگانے سے ہم بستری کرنا مراد ہے اور خَلْوتِ صحیحہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔
(2) یہ بھی معلوم ہوا کہ مہر کا ذکر کئے بغیر بھی نکاح درست ہے مگر اس صورت میں اگر خَلْوت ِ صحیحہ ہو گئی یا دونوں میں سے کوئی فوت ہو گیا تو مہر مثل دینا واجب ہے بشرطیکہ نکاح کے بعد انہوں نے آپس میں کوئی مہر طے نہ کرلیا ہو اور اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق ہو گئی تو تین کپڑوں یعنی کرتا، شلوار اور دوپٹے پر مشتمل ایک جوڑا سوٹ دینا واجب ہوتا ہے، یہاں آیت میں اسی کا بیان ہے اوراگرجوڑے کی جگہ اس کی قیمت دیدے تو یہ بھی ہو سکتا ہے ۔
(3)جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا ہو اوراس کوخلوت ِ صحیحہ سے پہلے طلاق دیدی ہو اس کو تو جوڑا دینا واجب ہے اور اس کے سواہر مطلقہ کے لیے مستحب ہے۔
فرمایا:’’ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ ‘‘ مالدار پر اس کی طاقت کے مطابق دینالازم ہے۔
امیر و غریب پر ان کی حیثیت کے مطابق جوڑا دینے کا حکم ہے یعنی اگر مرد و عورت دونوں مالدار ہوں تو جوڑا اعلی درجے کا ہو اور اگر دونوں محتاج ہوں تو جوڑا معمولی درجے کا اور ایک مالدار ہو اور ایک محتاج تو جوڑا درمیانے درجے کا ہو۔(2)
حق مہر سے متعلق مزید 6شرعی احکام
ارشاد فرمایا:
وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ
ترجمہ : اور اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیدو اور تم
[1] … پ2،البقرہ:236
[2] … عالمگیری، کتاب النکاح، الباب السابع، الفصل الثانی، ۱/۳۰۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع