30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) نکاح میں مہر کا ذکر ہی نہ ہوا یا مہر کی نفی کر دی کہ مہر کے بغیر نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور اگر خلوتِ صحیحہ ہو گئی یا دونوں میں سے کوئی مر گیا اور نکاح کے بعد میاں بیوی میں کوئی مہر طے نہیں پایا تھا تو مہرِ مثل واجب ہے ورنہ جو طے پایا تھا وہ واجب ہے۔ مہر سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ 7کا مطالعہ کیجئے۔
فرمایا:’’ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ ‘‘ توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو۔‘‘
یعنی جن عورتوں سے تم شرعی نکاح کر کے جماع وغیرہ کافائدہ حاصل کرنا چاہو تو انہیں ان کے مقرر کردہ مہر ادا کرو۔
عورت سے نفع اٹھانے کی جائز صورتیں :
اسلام میں عورت سے نفع اٹھانے کی صرف دو صورتیں جائز ہیں جو قرآنِ پاک میں بیان کی گئی ہیں : (1) شرعی نکاح ے ذریعے۔ (2) عورت جس صورت میں لونڈی بن جائے۔ لہٰذا اس کے علاوہ ہر صورت حرام ہے۔ شروعِ اسلام میں کچھ وقت کیلئے نکاح سے کچھ ملتا جلتا معاہدہ کرکے فائدہ اٹھانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے قیامت تک کے لئے حرام فرما دیا۔ جیساکہ حضرت سَبُرَہ جُہَنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سیدُ المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے (متعہ کی صورت میں ) نفع اٹھانے کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے تو جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے اور جو انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ نہ لو۔(1)
اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پرنبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے متعہ سے منع فرما دیا۔(2)
عورت کے حق مہر سے متعلق چند شرعی احکام
ارشاد فرمایا:
لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ
ترجمہ : اگر تم عورتوں کو طلاق دیدو توجب تک تم نے ان کو چھوا نہ
[1] … مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ وبیان انّہ ابیح ثمّ نسخ…الخ، ص۷۲۹، الحدیث: ۲۱(۱۴۰۶)
[2] … ترمذی، کتاب النکاح، باب ما جاء فی نکاح المتعۃ، ۲ / ۳۶۵، الحدیث: ۱۱۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع