30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حق مہر کے ساتھ نکاح کا حکم
ارشاد فرمایا:
وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ-فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۲۴)(1)
ترجمہ : اور ان عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں کہ تم انہیں اپنے مالوں کے ذریعے نکاح کرنے کو تلاش کرونہ کہ زنا کے لئے توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرناچاہو ان کے مقررہ مہر انہیں دیدو اور مقررہ مہر کے بعد اگر تم آپس میں (کسی مقدار پر) راضی ہوجاؤ تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ بیشک اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔
نکاح کا حکم اور بدکاری کی ممانعت:
فرمایا کہ حلال عورتوں کو تم مہر کے ذریعے تلاش کرو۔ عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے اور یوں وہ اپنے نطفہ ا ور مال کو ضائع کرکے دین و دنیا کے خسارے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
مہر کے چندضروری مسائل:
اس آیت میں مہر کا ذکر ہوا اس مناسبت سے یہاں مہر سے متعلق چند ضروری مسائل ذکر کئے جاتے ہیں :
(1) مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، چاندی میں ا س کا وزن دو تولے ساڑھے سات ماشے ہے، اس کی جو قیمت بنتی ہو وہ مہر کی کم از کم مقدار ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں باہمی رضا مندی سے جتنا چاہے مقرر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ خیال رکھیں کہ مہر اتنا مقرر کریں جتنا دے سکتے ہوں۔
(2) مہر کا مال ہونا ضروری ہے اور جو چیز مال نہیں وہ مہر نہیں بن سکتی، مثلا ًمہر یہ ٹھہرا کہ شوہر عورت کو قرآنِ مجید یا علمِ دین پڑھا دے گا تواس صورت میں مہرِ مثل واجب ہو گا۔
[1] … پ5،النساء:24
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع