30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گواہی دیتی ہے رمضان کے روزے رکھتی ہے، اچھی طرح وضو کرتی ہے اور نماز پڑھتی ہے۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: وہ مومنہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا :تو اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سچا نبی بنا کر مبعوث فرمایا، میں اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کروں گا، چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا ۔ اس پر لوگوں نے طعنہ زنی کی کہ تم نے ایک سیاہ فام باندی کے ساتھ نکاح کیا حالانکہ فلاں مشرکہ آزاد عورت تمہارے لیے حاضر ہے ،وہ حسین بھی ہے،مالدار بھی ہے اس پریہ آیت نازل ہوئی(1) کہ مسلمان باندی مشرکہ عورت سے بہتر ہے خواہ وہ مشرکہ آزاد ہو اور حسن و مال کی وجہ سے اچھی معلوم ہوتی ہو۔
عورت کے سرپرست کو اس کا نکاح مشرک سے کرنے کی ممانعت:
فرمایا:’’ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ ‘‘ اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔‘‘
یہ عورت کے سرپرستوں سے خطاب ہے کہ اپنی مسلمان عورتوں کو مشرکوں کے نکاح میں نہ دو۔ مسلمان عورت کا نکاح مشرک و کافر کے ساتھ باطل و حرام ہے۔مشرک و کافر لوگ تو تمہیں جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور تمہیں نصیحت فرمانے کیلئے تم پر اپنے احکام نازل فرماتا ہے۔ اس آیت میں آج کل کے مسلمانوں کے لئے بہت واضح حکم موجود ہے۔انتہائی افسوس ہے کہ قرآن میں اتنی صراحت و وضاحت سے حکم آنے کے باوجود مسلمان لڑکوں میں مشرکہ لڑکیوں کے ساتھ اور یونہی کافر لڑکوں اور مسلمان لڑکیوں میں باہم شادیوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کفارو مسلم اکٹھے رہتے ہیں۔ مغربی طرزِزندگی نیز لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم سے جہاں اور تباہیاں مچی ہوئی ہیں اور بے حیائی کا طوفان امڈ آیا ہے وہیں باہم ایسی حرام شادیوں کے ذریعے زندگی بھر کی بدکاری کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں۔ اس تمام صورتحال کا وبال اُن لڑکوں لڑکیوں پر بھی ہے جو اس میں مُلَوَّث ہیں اور ان والدین پربھی جو راضی خوشی اولاد کو اس جہنم میں جھونکتے ہیں اور ان حکمرانوں اور صاحب ِ اختیار پر بھی ہے جو ایسی تعلیم کو رواج دیتے ہیں یا باوجودِ قدرت اس کا اِنسِداد کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور یونہی اس کا وبال اُن نام نہاد جاہل دانشوروں ، لبرل اِزم کے مریضوں اور دین دشمن قلمکاروں پر بھی ہے جو اس کی تائید و حمایت میں ورق سیاہ کرتے ہیں۔
[1] … خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۱، ۱/۱۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع