30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖۚ-وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠(۲۲۱) (1)
اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
فرمایا:’’ وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ ‘‘ اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔
شانِ نزول:
یہ آیت حضرت مرثد غَنَوِی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ،وہ ایک بہادر شخص تھے۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں مکہ مکرمہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے کسی تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو نکال لائیں۔وہاں عَناق نامی ایک مشرکہ عورت تھی جو زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ محبت کرتی تھی وہ حسین اور مالدار تھی جب اُس کو اِن کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور اپنی طرف دعوت دی ۔آپ نے خوفِ الٰہی کی وجہ سے اس سے اِعراض کیا اور فرمایا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا تب اس نے نکاح کی درخواست کی توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اجازت پر موقوف ہے۔ چنانچہ پھر اپنے کام سے فارغ ہو کر جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو صورت ِ حال عرض کرکے نکاح کے متعلق دریافت کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(2)
اور فرمایا گیا کہ مشرکہ عورتوں سے نکاح کی اجازت نہیں اگرچہ وہ تمہیں پسند ہوں۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اہلِ کتاب یعنی یہودی، عیسائی عورت سے نکاح کی اجازت ہے ۔
مسلمان باندی مشرکہ عورت سے بہتر ہے:
فرمایا:’’ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ ‘‘اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے۔
شانِ نزول:
ایک روز حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کسی خطا پر اپنی باندی کے طمانچہ مارا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ا س کی ایمانی حالت کے متعلق دریافت کیا ۔ عرض کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رسالت کی
[1] … پ2،البقرہ:221
[2] … خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۱، ۱/۱۶۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع