30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠(۲۲)(1)
ہوچکا (وہ معاف ہے۔) بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا سبب ہے، اور یہ بہت برا راستہ ہے
زما نہ ٔجاہلیت میں رواج تھا کہ باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سگی ماں کو چھوڑ کر باپ کی دوسری بیوی سے شادی کر لیتا تھا، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔(2)
یہاں اگر نکاح سے مراد عَقدِ نکاح ہے تو معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اگرچہ باپ نے خلوت سے پہلے اسے طلاق دے دی ہو اور اگر نکاح سے مراد صحبت ہے تو معلوم ہوا کہ جس عورت سے اپنا باپ صحبت کرے خواہ نکاح کر کے یا زنا کی صورت میں یا لونڈی بنا کر بہر صورت وہ عورت بیٹے پر حرام ہے کیونکہ یہ بیٹے کی ماں کی طرح ہے۔
فرمایا:’’ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ ‘‘مگر جو ہو گزرا۔
یعنی جاہلیت کے زمانہ میں تم نے جو ایسے نکاح کر لئے اور اب وہ عورتیں مر بھی چکیں تم پر اس کا گناہ نہیں کیونکہ وہ گناہ قانون بننے سے پہلے تھے۔ یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر مجوسی اسلام لائے اور اس کے نکاح میں اپنی ماں یا بہن ہے تو اسے چھوڑ دینا فرض ہے لیکن اس نے زمانہ کفر میں جو نکاح کئے ہوں ، ان سے جو اولاد ہو چکی ہو وہ اولاد حلالی ہو گئی، کیونکہ کفار پر اس طرح کے شرعی احکام جاری نہیں۔
مشرکہ عورت اور مشرک مرد سے نکاح
ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّؕ-وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْۚ-وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ-وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚۖ-وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ
ترجمہ : اورمشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو اور (مسلمان عورتوں کو) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ مشرک تمہیں پسندہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں
[1] … پ4،النساء:22
[2] … قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۷۳، الجزء الخامس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع