30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہوتے اُس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے یا بھتیجی کے ہوتے اُس کی پھوپی سے یا خالہ کے ہوتے اُس کی بھانجی سے یا بھانجی کے ہوتے اُس کی خالہ سے(نکاح کیا جائے )۔ (1)
فرمایا:’’ وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآء ‘‘اور شوہر والی عورتیں۔
وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو البتہ کافروں کی وہ عورتیں جن کے مسلمان مالک بن جائیں وہ ان کے لئے حلال ہیں ، اس کی صورت یہ ہے کہ میدانِ جنگ سے کفار کی عورتیں گرفتار ہوں اور ان کے شوہر دارُ الحَرْب میں ہوں تو بادشاہِ اسلام یا لشکر کامجاز امیر ان عورتوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دے اور جو قیدی عورت جس مجاہد کے حصے میں آئے وہ اس کے لئے حلال ہے کہ ملک مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا سابقہ نکاح ختم ہو گیا، وہ عورت اگر حاملہ ہے تو وضع حمل کے بعد ورنہ ایک ماہواری آجانے کے بعد اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
فرمایا:’’ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ ‘‘اور ان کے علاوہ سب تمہارے لئے حلال ہیں۔
یعنی جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
نوٹ: تفصیلی معلومات کے لئے فتاوی رضویہ جلد نمبر 11سے اور بہار شریعت حصہ 7سے’’ محرمات کا بیان‘‘ پڑھئے۔
باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح
ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا
ترجمہ : اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کروالبتہ جو پہلے
[1] …ترمذی،ابواب النکاح، باب ماجاء لاتنکح المرأۃ علی عمتھا…الخ،۲/۳۶۷، حدیث: ۱۱۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع