30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رضاعی رشتے دودھ کے رشتوں کو کہتے ہیں۔ رضاعی ماؤں اور رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نکاح حرام ہے بلکہ رضاعی بھتیجے، بھانجے، خالہ، ماموں وغیرہ سب سے نکاح حرام ہے۔ حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔ (1)
فرمایا:’’ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ ‘‘اور تمہاری بیویوں کی مائیں۔
چار طرح کی عورتیں مُصاہَرت کی وجہ سے حرام ہیںاور وہ یہ ہیں (1) وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو اس کی لڑکیاں۔ (2) بیوی کی ماں ، دادیاں ، نانیاں۔ (3) باپ داد ا وغیرہ ا صول کی بیویاں۔ (4) بیٹے پوتے وغیرہ فروع کی بیٹیاں۔
فرمایا:’’ وَ رَبَآىٕبُكُمُ ‘‘اور تمہاری سوتیلی بیٹیاں۔
جن بیویوں سے صحبت کر لی ہو ان کی دوسرے شوہر سے جو بیٹی ہو اس سے نکاح حرام ہے اگرچہ وہ شوہر کی پرورش میں نہ ہو کیونکہ پرورش کی قید اتفاقی ہے مگر یہ سوتیلی لڑکی صرف شوہر کیلئے حرام ہے، شوہر کی اولاد کے لئے حلال اور شوہر کیلئے بھی جب حرام ہے جبکہ بیوی سے صحبت کر لی ہواور اگر بغیر صحبت طلاق دی یا وہ فوت ہو گئی تو اس کی بیٹی حلال ہے۔
فرمایا:’’ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ ‘‘تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں۔
اس سے معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی بیٹے کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بھی بیٹوں میں داخل ہیں۔
فرمایا:’’ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ :اور دو بہنوں کو اکٹھاکرنا۔‘‘ ایک بہن نکاح میں موجود ہے اور دوسری سے نکاح کرلینا، یہ حرام ہے اور حدیث شریف میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کونکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: عورت اور اس کی پھوپھی کو (نکاح میں ) جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو۔(2)
دوسری حدیث پاک میں ہے : حضور ِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِس سے منع فرمایا کہ پھوپی کے نکاح
[1] … بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الانساب…الخ، ۲/۱۹۱، حدیث: ۲۶۴۵
[2] …مسلم،کتاب النکاح، باب تحریم الجمع بین المرأۃ…الخ،ص:731،حدیث:۳۳(۱۴۰۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع