30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی گئی کہ نسب میں تم سب برابر ہو کہ سبھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہو لہٰذا لونڈیوں سے نکاح کرنا باعثِ شرم نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ تم سب ایمان میں مُشْتَرَک ہو کہ تمہارا دین اسلام ہے اور ایمان والا ہونا بڑی فضیلت کا حامل ہے نیز فضیلت کا دارومدار تو ایمان اور تقویٰ پر ہے اس لئے جب لونڈیوں سے نکاح کی حاجت ہو تو شرماؤ نہیں ، ان کا ایمان والا ہونا کافی ہے۔ (1)
نکاح کے معاملے میں بدکاروں کا حال
ارشاد فرمایا:
اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً٘-وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌۚ-وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(۳)(2)
ترجمہ : زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے گااور یہ ایمان والوں پر حرام ہے۔
فرمایا کہ زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرنا پسندکرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرنا پسندکرے گا کیونکہ خبیث کا میلان خبیث ہی کی طرف ہوتا ہے، نیکوں کو خبیثوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ اس آیت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ فاسق وفاجر شخص نیک اور پارسا عورت سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے جیسی فاسقہ فاجرہ عورت سے نکاح کرنا پسند کرتا ہے اسی طرح فاسقہ فاجرہ عورت نیک اور پارسا مرد سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنے جیسے فاسق وفاجر مرد سے ہی نکاح کرنا پسند کرتی ہے۔
شانِ نزول:
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مہاجرین میں سے بعض بالکل نادار تھے، نہ اُن کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اورغلط کار مشرکہ عورتیں دولت مند اور مالدار تھیں، یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر اُن سے نکاح کرلیا جائے تو ان کی دولت کام میں آئے گی۔سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اُنہوں نے اس کی اجازت چاہی تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا۔(3)
[1] … تفسیرکبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴/۴۹، جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲/۳۹، ملتقطاً
[2] … پ18،النور:3
[3] … خازن، النور، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۳۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع