30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے۔(1)
اِس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی مالی پوزیشن دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔
نکاح سے متعلق 2 شرعی مسائل:
(1) اِس آیت سے معلوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے۔
(2) تمام امّت کا اِجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام قبول کیا، اس کی آٹھ بیویاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اِن میں سے صرف چار رکھنا۔(2)
بیویوں کے درمیان انصاف کرنا ممکن نہ ہو تو:
مزید فرمایا: ’’ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً ‘‘پھر اگر تمہیں عدل نہ کرسکنے کا ڈر ہو تو صرف ایک (سے نکاح کرو)
آیت میں چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی صورت میں سب کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے تو صرف ایک سے شادی کرو۔اسی سے یہ معلوم ہوا کہ اگرکوئی چار میں عدل نہیں کرسکتا لیکن تین میں کرسکتا ہے تو تین شادیاں کرسکتا ہے اور تین میں عدل نہیں کرسکتا لیکن دو میں کرسکتا ہے تو دو کی اجازت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا فرض ہے، اس میں نئی، پرانی، کنواری یا دوسرے کی مُطَلَّقہ، بیوہ سب برابر ہیں۔ یہ عدل لباس میں ، کھانے پینے میں ، رہنے کی جگہ میں اوررات کوساتھ رہنے میں لازم ہے۔ ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔
[1] … خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ۱/۳۴۰
[2] … ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب فی من اسلم وعندہ … الخ، ۲/۳۹۶، حدیث: ۲۲۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع