30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رُبٰعَۚ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ(۳)(1)
تین او ر چار چار پھر اگر تمہیں اس بات کا ڈرہو کہ تم انصاف نہیں کرسکو گے تو صرف ایک (سےنکاح کرو) یا لونڈیوں (پر گزارا کرو) جن کے تم مالک ہو۔ یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔
اِس آیت کے معنی میں چندا قوال ہیں۔
(1) امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ سرپرستی یتیم لڑکیوں سے اُن کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے حالانکہ اُن کی طرف انہیں کوئی رغبت نہ ہوتی تھی، پھر اُن یتیم لڑکیوں کے حقوق پورے نہ کرتے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرتے اور اُن کے مال کے وارث بننے کے لئے اُن کی موت کے منتظر رہتے، اِس آیت میں اُنہیں اِس حرکت سے روکا گیا۔(2)
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی سرپرستی کرنے سے توناانصافی ہوجانے کے ڈرسے گھبراتے تھے لیکن بدکاری کی پرواہ نہ کرتے تھے، اِنہیں بتایا گیا کہ اگر تم ناانصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی سرپرستی سے گریز کرتے ہو تو بدکاری سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ۔(3)
(3) تیسرا قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی سرپرستی میں تو ناانصافی کرنے سے ڈرتے تھے لیکن بہت سے نکاح کرنے میں کچھ خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے، اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں ناانصافی سے بھی ڈرو جیسے یتیموں کے حق میں ناانصافی کرنے سے ڈرتے ہو اور اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو۔(4)
(4) حضرت عِکْرمَہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کابوجھ نہ اٹھا سکتے تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں
[1] … پ4،النساء:3
[2] … صاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۳،۲/۳۵۹
[3] … تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۴۸۵
[4] … مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۳، ص۲۰۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع