30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت کریمہ میں حج کے احکام و آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ حج کے چند مشہور و معروف مہینے ہیں۔ یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ۔ حج کے ارکان صرف ساتویں ذی الحجہ سے بارھویں تک ادا ہوتے ہیں۔ مگر شوال، ذیقعدہ کو بھی حج کے مہینے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان میں احرام با ندھنا بلا کراہت جائز ہے اور ان سے پہلے حج کا احرام باندھنا مکروہ ہے۔
مزید فرمایا: فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ: تو جو ان میں حج کو لازم کرلے۔ یعنی جو شخص احرام باندھ کر یا ہَدی کا جانور چلا کرحج کو اپنے اوپر لازم کرلے اس پر یہ چیزیں لازم ہیں :
(1) رفث سے بچنا۔ رَفَث سے مراد ہے، ہم بستری کرنا یا عورتوں کے سامنے اس کا ذکر کرنا یا فحش کلام کرنا۔(1) البتہ نکاح کرسکتا ہے۔
(2) فسوق سے بچنا۔ فسق کا معنیٰ ہے گناہ اور برائی کے کام۔
(3) جدال سے بچنا ۔ جِدال سے مراد ہے ،اپنے ہم سفروں سے یا خادموں سے یا غیروں کے ساتھ جھگڑنا۔ (2)
یاد رہے کہ گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا تو ہر جگہ ہی ممنوع ہے لیکن چونکہ حج ایک عظیم اور مقدس عبادت ہے اس لئے اس عبادت کے دوران ان سے بچنے کی بطورِ خاص تاکید کی ہے۔
نکاح کی استطاعت نہ رکھنے پر پاکدامنی کی تاکید
ارشاد فرمایا:
وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ- (3)
ترجمہ : اورجو لوگ نکاح کرنے کی طاقت نہیں پاتے انہیں چاہیے کہ پاکدامنی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔
اس آیت میں ان لوگوں کا حکم بیان کیا جا رہا ہے جو نکاح کرنے کی اِستطاعت نہیں رکھتے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ مَہر اور نان نفقہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو انہیں چاہیے کہ حرام کاری سے بچے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار کردے اور وہ مہرو نان نفقہ ادا
[1] … ہدایہ، کتاب الحج، باب الاحرام،۱/۱۳۵
[2] … تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۷، ص۹۵
[3] … پ18،النور:33
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع