30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بتادیا گیا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے ہم بستری کرنا حرام ہے اور چونکہ یہ قرآن کی واضح آیت سے ثابت ہے لہٰذا ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سخت گنہگار ہوا، اس پر توبہ فرض ہے۔(1)یونہی ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کی جگہ سے لذت حاصل کرنا منع ہے۔(2)بقیہ ان سے گفتگو کرنا، ان کے ساتھ کھانا پینا حتی کہ ان کا جوٹھا کھانا بھی جائز ہے ،گناہ نہیں۔
مزید فرمایا:’’ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ ‘‘ پھر جب خوب پاک ہوجائیں۔
خوب پاک ہونے سے مراد ایامِ حیض ختم ہونے کے بعد غسل کر لینا ہے۔
حیض سے متعلق 4 احکام:
(1) حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔
(2) حیض کے دنوں میں عورت کیلئے تلاوتِ قرآن، نماز، روزہ، مسجد میں داخلہ، قرآن کو چھونا اور خانہ کعبہ کا طواف حرام ہوجاتاہے۔
(3) ذکرودرود وغیرہ میں کوئی حرج نہیں البتہ اس کیلئے وضو کرلینا مستحب ہے۔
(4) ایامِ حیض کے روزوں کی قضا عورت پر لازم ہے جبکہ نمازیں معاف ہیں۔مزید تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 2کا مطالعہ فرمائیں۔
ادائے نماز کی تاکید
ارشاد فرمایا:
وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ (3)
ترجمہ :اور نماز قائم رکھو۔
اس آیت مبارکہ میں حضوِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مُطَہَّرات سے فرمایا گیا کہ تم نماز قائم رکھو جو کہ بدنی عبادات کی اصل ہے۔(4)
نوٹ: خیال رہے کہ یہاں خطاب اگرچہ ازواجِ مطہرات کو ہے لیکن یہ حکم عام ہے اور تمام عورتوں کے
[1] … بہار شریعت، حصہ دوم، نفاس کا بیان، ۱/۳۸۲
[2] … رد المحتار، کتاب الطہارۃ، ۱/۵۳۴
[3] … پ22، الاحزاب:33
[4] … روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۳، ۷ / ۱۷۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع