30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھاتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا: اس درخت میں یہ تاثیر ہے کہ اس کا پھل کھانے والا فرشتہ بن جاتا ہے یا ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلیتا ہے اور اس کے ساتھ ممانعت کی کچھ تاویلیں کرکرا کے دونوں کو اس درخت سے کھانے کی طرف لے آیا۔چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا:
قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ(۲۰) وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ(۲۱) (1)
ترجمہ :کہنے لگا تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ۔ اور ان دونوں سے قسم کھاکر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۔
حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں چونکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی اس لئے آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے، نیز جنت قربِ الٰہی کا مقام تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اُس مقامِ قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے ؛لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍۚ-فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ- (2) ترجمہ :تو اُتار لایا انہیں فریب سے پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے۔
درخت سے کھانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے جنتی لباس اتر گئے اور ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ اپنا ستر چھپانے اور جسم ڈھانکنے کے لئے جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور درخت سے کھا کر حضرت آدم علیہ السلام سے اپنے رب عزّوجلّ کےحکم میں لغزش واقع ہوئی تو انہوں نے اس سے جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا اور اس درخت کے کھانے سے انہیں دائمی زندگی نہ ملی۔ (3)
[1] … پ8، الاعراف:21،20
[2] … پ8، الاعراف:22
[3] … خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۳ / ۲۶۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع