30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاد میں شریک ہونے والی ایک اور جانباز صحابیہ:
حضرت بی بی ام عمارہ جن کا نام ” نسیبہ” ہے جنگ ِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور دو فرزند حضرت عمارہ اور حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آئی تھیں۔ پہلے تو یہ مجاہدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر کفار کی یلغار کا ہوش ربا منظر دیکھا تو مشک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کفار کے تیر و تلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر تیرہ زخم لگے۔ ابن قمیئہ ملعون نے جب حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر تلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمارہ رضی اللہ عنہا نے آگے بڑھ کر اپنے بدن پر روکا۔ چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیا پھر خود بڑھ کر ابن قمیئہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے بچ گیا۔
حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللہ عنہا کے فرزند حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیا اور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اُٹھو، کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہادمیں مشغول ہو جاؤ۔ اتفاق سے وہی کافر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ! رضی اللہ عنہا دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ منظر دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِ عمارہ! رضی اللہ عنہا تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خداکی راہ میں جہاد کیا، حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے عرض کی: یا رسول اﷲ ! عزّوجلّ و صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دعا فرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔ اس وقت آپ نے ان کے لئے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لئے اس طرح دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُمْ رُفَقَائِيْ فِي الْجَنَّةِ یا اﷲ ! عزّوجلّ ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔حضرت بی بی اُم عمارہ رضی اللہ عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔(1)
[1] … مدارج النبوہ،2/126
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع