30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ علیہ السلام کے علوم کی وسعت معلوم کرنےکیلیےعرض کی:ان کانام کیاہے؟ ارشادفرمایا:حوا رضی اللہ عنہا ۔ عرض کی:ان کا نام ’’حوا‘‘ کیوں ہے؟ارشاد فرمایا:کیونکہ یہ ایک زندہ وجود سے پیدا کی گئی ہے۔(1)
یہاں ایک اہم بات قابل توجہ ہے کہ انسانوں کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اسی لئے آپ علیہ السلام کو’’ ابوالبشر‘‘ یعنی ’’انسانوں کا باپ ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ تو ممکن نہیں ہے کہ پہلا انسان پیدائش کے موجود طریقے سے پیدا ہوا ہو یعنی ماں باپ سے پیدا ہوا ہو؛ کیونکہ اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے اور پھر جسے باپ مانا وہ خود کہاں سے آیا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہو اور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین وہ اِس طریقے سے ہٹ کر پیدا ہوا اور وہ طریقہ قرآن نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ایک انسان یوں وجود میں آگیا تو دوسرا ایسا وجود چاہیے جس سے نسلِ انسانی چل سکے تو دوسرے کو بھی پیدا کیا گیا لیکن دوسرے کو پہلے کی طرح مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کرنے کی بجائے جو ایک شخصِ انسانی موجود تھا اسی کے وجود سے پید افرما دیا؛ کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی تھی چنانچہ دوسرا وجود پہلے وجود سے کچھ کم تر اور عام انسانی وجود سے بلند تر طریقے سے پیدا کیا گیا یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی ایک بائیں پسلی ان کے آرام کے دوران نکالی اور اُن سے اُن کی بیوی حضرت حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا گیا۔ چونکہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا مرد وعورت والے باہمی ملاپ سے پیدا نہیں ہوئیں ،اس لئے وہ اولاد نہیں ہو سکتیں۔(2)
حضرت حوا رضی اللہ عنہا کی تخلیق کا ایک مقصد:
حضرت حوا رضی اللہ عنہا کی تخلیق کا ایک اہم مقصد یہ تھاکہ حضرت آدم علیہ السلام ان سے سکون حاصل کریں اور ان کی تنہائی دور ہو،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ- (3)
ترجمہ :وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس سے سکون حاصل کرے۔
[1] …البحر المحیط، البقرة، تحت الاٰیة:۳۵، ۱/۳۰۷، تفسیر طبری، البقرة، تحت الاٰیة:۳۵، ۱/۲۶۷، خازن، البقرة، تحت الاٰیة:۳۵، ۱/۴۵، ملتقطاً.
[2] … خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۳۴۰
[3] …پ۹،الاعراف:۱۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع