30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) (1)
اپنے باپ۔ اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔
یہاں سے قیامت کی ہَولْناکیاں بیان کی جا رہی ہیں کہ جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی آواز آئے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے بےپرواہ کردے گی۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ شدہ اٹھائے جاؤ گے۔ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کیا لوگ ایک دوسرے کے ستر کو بھی دیکھیں گے؟ارشاد فرمایا: اے فلاں عورت!’’ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ‘‘ ترجمہ : ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکرپڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(2)
روزِ قیامت نیکی مانگنے پر بیوی اور بیٹے کا جواب:
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (قیامت کے دن ) مرد اپنی بیوی سے ملے گا تو اس سے کہے گا : سنو! میں دنیا میں تمہارا کیسا شوہر تھا؟ وہ جواب دے گی :آپ اچھے شوہر تھے اور بیوی سےجتنی ہو سکے گی اس کی تعریف کرے گی۔ شوہر اس سے کہے گا: میں تم سے تمہاری ایک نیکی مانگتا ہوں تم مجھے ایک نیکی دے دو تاکہ جس حالت میں تم مجھے دیکھ رہی ہو میں اس سے نجات حاصل کر لوں۔ بیوی جواب دے گی : اگرچہ آپ نے تھوڑی سی چیزمانگی ہے لیکن میں آپ کو کچھ بھی نہیں دے سکتی ،مجھے بھی اسی چیز کا خوف ہے جس کا آپ کو ہے۔
مزید فرماتے ہیں: (قیامت کے دن) آدمی اپنے بیٹے سے ملے گا تو اس سے چمٹ کر پوچھے گا: اے میرے بیٹے میں (دنیا میں) تمہارا کیسا والد تھا؟ تو بیٹا اپنے باپ کی بھلائی بیان کرے گا۔ والد کہے گا: مجھے تمہاری نیکیوں میں سے
[1] … پ30، عبس:34-37
[2] … ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ عبس، ۵ / ۲۱۹، الحدیث: ۳۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع