30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہلِ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂ جاہلیّت میں وہ لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیتے تھے اورآیت میں مذکور سوال قاتل کی سرزنش کے لئے ہوگا تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی تھی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نام لے کر فرمایا: ایک صاحب تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، میں نے زمانۂ جاہلیّت میں اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا تھا (اب میرے لئے کیا حکم ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ہر بیٹی کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو۔اس شخص نے دوبارہ عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم (میرے پاس غلام نہیں ہیں البتہ) میں اونٹوں کا مالک ہوں ۔ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو ہر بیٹی کے بدلے ایک اونٹ ہدیہ کر دو۔(1)
بیٹیو ں سے متعلق دین ِاسلام کا عظیم کارنامہ:
یہ دین ِاسلام کا ہی عظیم کارنامہ ہے جس نے بیٹیوں کو اپنے لئے بدنامی کا باعث سمجھ کرزمین میں زندہ دفن کر دینے والے لوگوں کو اس انسانیّت کُش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کر دیا اس سے معلوم ہوا کہ اسلا م عورتوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر طرح کے ظلم سے بچاتا ہے، چاہے وہ ظلم ان کی ناحق زندگی ختم کر کےکیا جائے یا ان کی عزت و ناموس اور ان کے جسم کے ساتھ کھیل کر یا ان کے جسم کی نمائش کروا کر کیا جائے۔ اس سے ان لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے جوعورت کے بارے دین ِاسلام کے اَحکامات کو اس کے اوپر ظلم قرار دیتے ہیں، چادر و چار دیواری کو عورت کے حق میں ناانصافی کہتے ہیں اور روشن خیالی اور نام نہادتہذیب و تَمَدُّن کے نام پر عورت کوشرم و حیا سے عاری کرنے میں اسلام کی شان سمجھتے ہیں۔
بیوی اور ماں سے بھی قیامت کے دن آدمی بھاگے گا
ارشاد فرمایا:
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
ترجمہ : اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔ اور اپنی ماں اور
[1] … معجم الکبیر، باب القاف، من اسمہ: قیس، قیس بن عاصم المنقری، ۱۸/۳۳۷، الحدیث: ۸۶۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع