30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۱۸۹) فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَاۚ-فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۱۹۰)(1)
گیا تو دونوں اپنے رب سے دعا کرنے لگے : اگر تو ہمیں صحیح سالم بچہ عطا فرما دے تو ہم یقینا شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اس نے انہیں صحیح سالم بچہ عطا فرمادیا تو انہوں نے اس کی عطا میں شریک ٹھہرا دئیے تو اللہ ان کے شرک سے بلندوبالا ہے۔
ان آیات میں مشرکوں کی جہالت اور ان کے شرک کاحال بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے پیدا کیا یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ، پھر ان سے ان کی زوجہ حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا اور ان کی اولاد میں آگے مشرکوں نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ اولاد کی دعا تو مانگتے رہے لیکن جب اولاد عطا ہوئی تو شرک میں پڑگئے۔ آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے پیدا کیایعنی ماں اور باپ سے پیدا کیا اور یہ دونوں انسان ہونے میں یکساں ہیں، پھر جب شوہر اور بیوی میں ملاپ ہوا اور حمل ظاہر ہوا تو ان دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں صحیح اور تندرست بچہ عطا کرے گا تو ہم ضرور تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے ،پھر جب اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا تو اُن کا حال یہ ہو اکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرانے لگ گئے کیونکہ کبھی تو وہ اس بچے کو انسانی فطرت کے تقاضے کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسے دَہریوں کا حال ہے، کبھی ستاروں کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسا کہ ستارہ پرستوں کا طریقہ ہے اورکبھی بتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسا کہ بت پرستوں کا دستور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ اُن کے اِس شرک سے برتر ہے۔ (2)
کفار کا فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہنا، معاذ اللہ
ارشاد فرمایا:
وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗۙ-وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ(۵۷)(3)
ترجمہ : اوروہ اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ پاک ہے اور اپنے لیے وہ (مانتے ہیں )جو اپنا جی چاہتا ہے۔
مشرکین اللہ عزّوجلّ کے لیے توبیٹیاں قرار دیتے ہیں جیسے بنو خزاعہ اور کنانہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اس کی شان میں ایسا کہنا بہت بے ادبی اور کفر
[1] … پ9،الاعراف:189 -190
[2] … تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ۵/۴۲۸
[3] … پ14 ،النحل:57
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع