30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکے اور طلاق واقع ہو جائے توفرمایا کہ دونوں اللہ عزّوجلّ پر توکل کریں ، اللہ کریم ، عورت کو اچھا خاوند اور مرد کو اچھی بیوی عطا فرما دے گا اور وسعت بھی بخشے گا۔
عورت اور مرد ایک دوسرے کے کُلّی محتاج نہیں :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ عورت بالکل مرد کی محتاج ہے اور نہ مرد بالکل عورت کا حاجت مند، سب رب عزّوجلّ کے حاجت مند ہیں ایک دوسرے کے بغیر کام چل سکتا ہے۔ عام طور پر طلاق کے بعد عورت اور اس کے گھر والے بہت غمزدہ ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر یہ آیتِ مبارکہ بار بار پڑھی جائے تو ان شاء اللہ عزّوجلّ دل کو تسکین ملے گی اور اللہ عزّوجلّ مناسب حل بھی عطا فرما دے گا۔ اس میں شوہروں کو بھی ہدایت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بیویوں کے مالک و مختار نہ سمجھیں اور یہ نہ سمجھیں کہ اگر انہوں نے چھوڑ دیا تو اب کائنات میں کوئی ان عورتوں کا سہارا نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں، اللہ عزّوجلّ ان کو سہارا دے گا۔اسی سلسلے میں یہاں ایک مفید وظیفہ پیشِ خدمت ہے۔ اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھ لے ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ اللہمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا ‘‘تو اللہ تعالیٰ اسے مصیبت پر ثواب عطا فرمائے گا اورا س سے بہتر چیز اسے عطا کرے گا۔ فرماتی ہیں:جب میرے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو اتو میں نے یہی دعا پڑھی اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہترین شوہر یعنی رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عطا فرما دئیے۔ (1)
شرک کا ایک واقعہ
قرآنِ پاک میں ہے:
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ-فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖۚ-فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىٕنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ
ترجمہ : وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس سے سکون حاصل کرے پھر جب مرد اس عورت پر چھایا تواسے ایک ہلکے سے بوجھ کا حمل ہوگیا تو وہ اسی کو لے کر چلتی رہی پھر جب حمل کا وزن بڑھ
[1] … مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ، ص۴۵۷، الحدیث: ۴(۹۱۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع