30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت بہت چھوٹی ہے۔(1)
ایمان کی حقوقِ والدین پر فوقیت کا بیان
ارشاد فرمایا:
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸)(2)
ترجمہ : اور ہم نے (ہر) انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی اور (اے بندے!) اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کی بات نہ مان۔میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں تمہیں تمہارے اعمال بتادوں گا۔
شانِ نزول :
یہ آیت اور سورۂ لقمان کی آیت نمبر14 اور سورۂ اَحقاف کی آیت نمبر15 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حق میں اور دوسری روایت کے مطابق حضرت سعد بن مالک زہری رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ماں حمنہ بنت ِابی سفیان بن امیہ بن عبد ِشمس تھی اور آپ رضی اللہ عنہ سابقین اَوّلین صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو آپ کی والدہ نے کہا : تو نے یہ کیا نیا کام کیا؟ خدا کی قسم ،اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ مرجاؤں اوریوں ہمیشہ کے لئے تیری بدنامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہا جائے۔ پھر اس بڑھیا نے فاقہ کیا اور ایک دن رات نہ کھایا، نہ پیا اور نہ سائے میں بیٹھی، جس سے کمزورہوگئی۔ پھر ایک رات دن اور اسی طرح رہی، تب حضرت سعد رضی اللہ عنہ اُس کے پاس آئے اور آپ نے اُس سے فرمایا کہ اے ماں! اگر تیری 100جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب ہی نکل جائیں تو بھی میں اپنا دین چھوڑ نے والا نہیں ، تو چاہے کھا ،چاہے مت کھا ۔جب وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی طرف سے مایوس ہوگئی کہ یہ اپنا دین چھوڑنے والے نہیں تو کھانے پینے لگی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حکم دیا کہ
[1] … سيرة ابن ہشام، شان عاصم بن ثابت،ص:340
[2] … پ20، العنکبوت:8
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع