30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں کے پیٹ میں بندہ متقی نہیں ہوتالہٰذا تقویٰ کے دعوے نہ کرے
ارشاد فرمایا:
هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْۚ-فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)(1)
ترجمہ : وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل کی صورت میں تھے تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔
شانِ نزول:
کچھ لوگ نیکیاں کرتے اور اپنے عملوں کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے ہماری نمازیں ،ہمارے روزے، ہمارے حج۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! تم فخریہ طور پر اپنی نیکیوں کی تعریف نہ کرو اور جس کی حقیقت کے بارے میں تم نہیں جانتے اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں اس سے بہتر ہوں ،میں اس سے زیادہ پاکیزہ ہوں اور میں زیادہ مُتّقی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کو خود جاننے والا ہے، وہ اُن کی ہستی کی ابتدا سے لے کر آخری اَیّام تک کے جملہ اَحوال جانتا ہے، وہ ان بندوں کوخوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں اور اسی کا جاننا کافی ہے کیونکہ وہی جزا دینے والا ہے لہٰذادوسروں پر اپنے اعمال کا اظہار اور نام و نمود سے کیا فائدہ ۔ (2)
عمومی طور پریہی ہے کہ کوئی بھی بچہ ماں کے پیٹ سے نیک یا بد، پیدا نہیں ہوتا بلکہ انسان کے ماں باپ یا بعد کے ماحول کی وجہ سے نیکی کی طرف یا ان ہی کی وجہ سے اور نفس و شیطان کے بہکاوے سے برائی کی طرف جاتا ہے۔ ماں باپ کے حوالے سے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ فطرت (قبولِ حق کی صلاحیت)پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔(3) لیکن اس کے ساتھ بہرحال کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوتا ہے اور وہ پیدائشی طور ہی پر ولی ہوتے ہیں بلکہ ان کی ولایت کے آثار حالت ِ حمل ہی میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔یہاں ایسی ہستیوں کے چار واقعات ملاحظہ ہوں ۔
[1] … پ27، النجم:32
[2] … خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۳۲، ۴ / ۱۹۸، مدارک، النجم، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۱۱۸۲
[3] … مسلم،کتاب القدر، باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ، ص:1095، حدیث:6755
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع