30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اپنی پیدائش کی ابتداء اور اوّل فِطرت میں علم و معرفت سے خالی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان ، آنکھیں اور دل بنائے، یہ حواس ا س لئے عطا کیے تا کہ تم ان سے اپنا پیدائشی جہل دور کرو اور تم شکر گزار بنو، علم و عمل سے فیض یاب ہو جاؤ اور یہ حواس اس لئے عطا کئے تاکہ تم نعمتیں عطا کرنے والے کا شکر بجالاؤ اور اس کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ اور اس کی نعمتوں کے حقوق ادا کرو۔ (1) لہٰذا ہر عضو کا ’’شکر‘‘ یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگایا جائے اور ناشکری یہ ہے کہ اس عضو کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کیا جائے۔
بیٹے یا بیٹیاں دینا خدا ہی کے اختیار میں ہے
ارشاد فرمایا:
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)(2)
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے ۔ وہ جو چاہے پیدا کرے ۔جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا دے اور جسے چاہے بانجھ کردے،بیشک وہ علم والا، قدرت والا ہے۔
فرمایا: آسمانوں اور زمین کاحقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ ان میں جیسا چاہتاہے تَصَرُّف فرماتا ہے اوراس میں کوئی دخل دینے اور اِعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔
بیٹوں بیٹیوں کی عطا میں خدا کی مشیت :
مزید اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عالَم میں اپنے تَصَرُّف اور اپنی نعمت کو تقسیم کرنے کی صورتیں بیان فرمائی ہیں، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ جسے چاہے صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور بیٹانہ دے اور جسے چاہے صرف بیٹے دے اور بیٹیاں نہ دے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کردے اور جسے چاہے بانجھ کردے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے اورجسے جو چاہے دے۔ انبیاء ِکرام علیہمُ السّلام میں بھی کئی صورتیں پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہما السّلام کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، کوئی بیٹا
[1] … مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۶۰۴،خازن، النحل، تحت الآیۃ : ۷۸، ۳ / ۱۳۶، ملتقطاً
[2] … پ25، الشوریٰ:49-50
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع