30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں کے وجود میں بچے کا وزن کم زیادہ ہونا اور علمِ الٰہی کی شان
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُؕ-وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ(۸) (1)
ترجمہ : اللہ جانتا ہے جو ہرمادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ کم اور زیادہ ہوتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا، سب سے بڑا، بلند شان والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اوراس کے کمالِ علم کی خبر دیتے ہوئے فرمایاگیا کہ کسی مادہ کے پیٹ میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ ، ایک ہے یا زیادہ اور اس کی تخلیق پوری ہو چکی یا نہیں اور اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ کس کے پیٹ کا بچہ جلدی پیدا ہو گا اور کس کا دیر میں ۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچے کا مضبوط ، خِلقت میں پورا اور ناقص ہونا مراد ہے۔(2)
یہی بات ایک دوسری آیت میں بتائی گئی کہ عورت سے بچوں کی پیدائش کا ہر مرحلہ خدا کے علم میں ہے اور اس کے کامل علم سے ہے، چنانچہ فرمایا:
اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِؕ-وَ مَا تَخْرُ جُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖؕ- (3)
ترجمہ : قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے ۔
ماں کے وجود سے بچے کی پیدائش اور اس وقت بچے کی حالت
ارشاد فرمایا:
وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ-وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَۙ-لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۸)(4)
ترجمہ : اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دلائل بیان فرمائے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری
[1] … پ13،الرعد:8
[2] … خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۵۴
[3] … پ 25 ، حم السجدہ:47
[4] … پ 14، النحل:78
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع