30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟ کیوں نہیں؟ یقینا قادر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب اس آیت ِکریمہ کی تلاوت فرماتے تو کہتے ’’ سُبْحَانَکَ اللّٰہمَّ بَلٰی ‘‘ یعنی اے اللہ ! عزّوجلّ ، تو (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے ،کیوں نہیں ۔ (تو مُردوں کو زندہ کرنے پر ضرور قادر ہے) (1)
ایک اور جگہ اسی دلیل کو یوں بیان فرمایا:
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ(۵) خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ(۶) یَّخْرُ جُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىٕبِؕ(۷) اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ(۸) (2)
ترجمہ : انسان کو غور کرنا چاہئے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔ جو پیٹھ اور سینوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ بیشک اللہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔
اس آیت میں انسان کو اپنی تخلیق کی ابتدامیں غور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تاکہ وہ یہ بات جان لے کہ جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ اُس انسان کی موت کے بعد جزا دینے کے لئے اسے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ ا س دن کے لئے عمل کرے جس دن اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسے جزا دی جائے گی۔(3)
اس سے اگلی آیت میں مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی یعنی مرد اور عورت کے نطفوں سے پیدا کیاجو کہ عورت کے رحم میں مل کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ نطفہ مَردوں کی پیٹھ اور عورتوں کے سینوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
پھر فرمایا:’’ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ ‘‘بیشک اللہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔
یعنی انسان کا اپنی تخلیق میں غور کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ جس رب تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پہلی بار پیدا کر دیا تو وہ انسان کی موت کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا دینے پر بطورِ خاص قادر ہے۔
نر و مادہ، مذکر و مونث کا سلسلہ ہر شے میں ہے
ارشاد فرمایا:
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ
ترجمہ : وہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والاہے، اس نے تمہارے
[1] … مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب الرجل یدعو ویسمّی فی دعائہ، ۲ / ۲۹۹، الحدیث: ۴۰۶۴
[2] … پ30، الطارق:5 -8
[3] … مدارک، الطّارق، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۳۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع