30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسری دلیل عورت کے وجود کے ذریعے نظامِ تخلیق کا سلسلہ ہے، چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے، ایک حالت کی تخلیق کے بعد دوسری حالت کی تخلیق ہوتی ہے۔ تین اندھیروں سے مرادپیٹ، بچہ دانی اور اس کی جھلی کا اندھیرا ہے اور ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی تخلیق سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ،پھر جمے ہوئے خون،پھر گوشت کے ٹکڑے اور پھر مکمل بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی کامل قدرت سے ان چیزوں کو پیدا فرمایا صرف وہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے ،اسی کی بادشاہی ہے نہ کہ کسی اور کی، اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے اور نہ ہی کوئی عبادت کے لائق ہے ،تو تم کہاں پھیرے جاتے ہو اور اس بیان کے بعدحق راستے سے دور ہوتے ہو کہ اس کی عبادت چھوڑ کر غیر کی عبادت کرتے ہو۔(1)
انسانی تخلیق کے انہی مراحل کوخدا کی الوہیت و قدرت کی دلیل کے طور پر ایک جگہ یوں فرمایا:
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًاؕ-وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖؕ- (2)
ترجمہ : اور اللہ نے تمہیں مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے کیا اور کوئی مادہ اللہ کے علم کے بغیر نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ ہی بچہ جنتی ہے ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی قدرت کا بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری اصل حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا ،پھران کی نسل کو پانی کی بوند سے بنایا، پھر تمہارےدو جوڑے بنائے یعنی مردو عورت بنائے۔ اس کے بعد کمالِ علم کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم میں ہر بچے کی تخلیق سے پہلے بلکہ بعد کے بھی تمام حالات سے خبردار ہے۔ یہ سب ایک کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں لکھا ہواہے،تو جب اللہ تعالیٰ ہی قادر، عالِم اور ارادے والا ہے تو وہی عبادت کے لائق ہے، نہ کہ بت جن میں قدرت،علم اور ارادہ کچھ بھی نہیں۔ (3)
مردو و عورت کی تخلیق کے اعتبار سے خالق کی قَسم
ارشاد فرمایا:
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ(۱) وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ(۲) وَ مَا
ترجمہ : رات کی قسم جب وہ چھاجائے اور دن کی جب وہ روشن
[1] … مدارک، الزمر، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۰۳۱، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۴۹، ملتقطاً
[2] … پ 22،الفاطر:11
[3] … قرطبی، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۱، ۷ / ۲۴۳، الجزء الرابع عشر، تفسیرکبیر، فاطر، تحت الآیۃ: ۱۱، ۹ / ۲۲۷، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع