30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) اور ہم نے تمہیں مختلف قومیں ،قبیلے اور خاندان بنایاتاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو اور ایک شخص دوسرے کا نسب جانے اوراس طرح کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کومنسوب نہ کرے، نہ یہ کہ اپنے نسب پر فخر کرنے لگ جائے اور دوسروں کی تحقیر کرنا شروع کر دے۔ (1)
آیت کے اس حصے’’- اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ‘‘ سےوہ چیز بیان فرمائی جارہی ہے جو انسان کے لئے شرافت وفضیلت کا سبب ہے اور جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت حاصل ہوتی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے۔
عورت کے ذریعے نظام ِ تخلیق کا سلسلہ ربوبیتِ الٰہی کی دلیل ہے
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍؕ-یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(۶)(2)
ترجمہ : اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے، تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے، ایک حالت کی تخلیق کے بعد دوسری حالت کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ اللہ تمہارا رب ہے ،اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ تو تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟
اس آیت میں قدرت ِ الٰہی اور ربوبیت کے متعدد دلائل دئیے گئے ہیں جیسے
پہلی دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک جان حضرت آدم علیہ السلام سے پیدا فرمایا، پھر انہی سے ان کی زوجہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو پیدا فرمایا ۔
دوسری دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اونٹ،گائے،بکری اوربھیڑ سے آٹھ جوڑے پیدا کئے، جوڑوں سے مراد نر اور مادہ ہیں ۔
[1] … مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۱۵۶
[2] … پ23، الزمر:6
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع