30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسانوں کی ابتداء کس سے ہوئی؟
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانوں کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اسی لئے آپ علیہ السلام کو ابوالبشر یعنی انسانوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ قرآن نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نسلِ انسانی چلانے کے لیے دوسرے انسان کووجود بخشایعنی حضرت حواء رضی اللہ عنہا کو، لیکن دوسرے کو پہلے کی طرح مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کرنے کی بجائے جو ایک شخص انسانی موجود تھا اسی کے وجود سے پید افرما دیا کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی تھی چنانچہ دوسرا وجود پہلے وجود کی پیدائش کے طریقے سے کچھ کم تر اور عام انسانی وجود سے بلند تر طریقے سے پیدا کیا گیا یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی ایک بائیں پسلی ان کے آرام کے دوران نکالی اور اُن سے اُن کی بیوی حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا گیا۔ چونکہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا مرد وعورت والے باہمی ملاپ سے پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ کسی کی اولاد نہیں ہو سکتیں۔ خواب سے بیدار ہو کر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے پاس حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو ہم جنس کی محبت دل میں پیدا ہوئی ۔ مخاطب کرکے حضرت حوا رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا: عورت۔ فرمایا: کس لئے پیدا کی گئی ہو؟ عرض کیا: آپ علیہ السلام کی تسکین کی خاطر، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام اُن سے مانوس ہوگئے۔(1)
آدم و حواء سے انسانوں کی تخلیق کے بعد قوموں قبیلوں میں تقسیم کی حکمت
ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)(2)
ترجمہ : اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
فرمایا کہ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم علیہ السلام اورایک عورت حضرت حوا رضی اللہ عنہا سے پیدا کیا اورجب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر
[1] … خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱، ۱/۳۴۰
[2] … پ26، الحجرات:13
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع