30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عملیات کے ذریعے میاں بیوی میں جدائی ڈالتے تھے اور یہ ایک چیز آگے ہزاروں فسادات کا سبب بنتی ہے۔ میاں بیوی میں لڑائی اور جدائی کےلئے جادو وغیرہ کا استعمال بہت قدیم زمانے سے ہوتا آرہا ہے۔ اس جدائی کے لئے جادو تو حرام ہےہی، اس کے علاوہ اس جدائی کے لیے عملیات و تعویذات و وِرد وظیفے بھی حرام ہیں۔اوپر آیت ہی میں میاں بیوی میں جدائی کے عمل کی مذمت پر اگلے الفاظ دلالت کررہے ہیں، فرمایا : یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔یعنی میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کا عمل کرنے والے اپنی جانیں بہت خسار ےمیں بیچ رہے ہیں کہ دنیا کی خاطر آخرت برباد کررہے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعلیمات اس حوالے سے بہت واضح ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ،پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اُس کا دَرَجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنے باز ہوتا ہے۔ اس کے لشکرمیں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے ایسا ایسا کیا ہے تو شیطان کہتا ہے : ” تُونے کچھ بھی نہیں کیا۔“ پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے ایک آدمی کو اس وَقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جُدائی نہیں ڈال دی۔ یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ”تُوکتنا اچھا ہے!“ اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔ (1)
ہاروت اور ماروت کون ہیں؟
اوپر ہاروت ماروت کا تذکرہ گزار، ان کے حوالے سے عوام میں بہت سی غلط باتیں مشہور ہیں، اس لئے یہاں ضرورت کی وجہ سے دو باتیں گوش گزار کی جاتی ہیں۔
(1)ہاروت، ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی آزمائش کیلئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ ان کے بارے میں غلط قصے بہت مشہور ہیں اور وہ سب باطل ہیں۔(2) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ہاروت اور ماروت کے بارے میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے آئمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات
[1] … مسلم، کتاب صفات المنافقین و احکامھم،باب تحریش الشیطان…الخ،ص:1158،حدیث:7106
[2] … خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع