30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روزِ قیامت زندہ دفن کی گئی لڑکی سے سوال
ارشاد فرمایا:
وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸)بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹) (1)
ترجمہ :اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟
اہلِ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂ جاہلیّت میں وہ لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیتے تھے، اس کی مذمت و قباحت وسنگینی کے لئے یہاں بیان فرمایا گیا کہ قاتل کی سرزنش کے لئے زندہ دفن کی جانے والی لڑکی سے سوال کیا جائے ہوگا کہ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟مقصد یہ کہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی تھی اور پھر اس جواب پر قاتل کو سزا دی جائے۔
نوٹ:اس آیت سے متعلق مزید تفصیل ’’باب:عورت اور قیامت ‘‘میں بیان کی گئی ہے۔
مومن عورتوں اور مردوں کو تکلیف پہنچانا
ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)(2)
ترجمہ : اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
شانِ نزول:
ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ الکریم کو ایذا دیتے تھے اور اُن کی شان میں بدگوئی کرتے تھے،اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں نازل ہوئی ۔یاد رہے کہ اس کا شانِ نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اَذِیَّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کوبہتان کی سزا اور کھلے گناہ
[1] … پ30 ، التکویر:8-9
[2] … پ 22 ، الاحزاب:58
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع