30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’اُمّ جمیل‘‘بڑبڑاتی ہوئی آئی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس سے گزرتی ہوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور مارے غصہ کے منہ میں جھاگ بھرتے ہوئے کہنے لگی کہ بتاؤ تمہارے رسول کہاں ہیں؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میری اور میرے شوہر کی ہجو کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے رسول شاعر نہیں ہیں کہ کسی کی ہجو کریں۔ پھر وہ غیظ و غضب میں بھری ہوئی پورے حرم کعبہ میں چکر لگاتی پھری اور بکتی جھکتی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ڈھونڈتی پھری۔ مگر جب وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نہ دیکھ سکی تو بڑبڑاتی ہوئی حرم سے باہر جانے لگی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی کہ میں تمہارے رسول کا سر کچلنے کے لئے یہ پتھر لے کر آئی تھی مگر افسوس کہ وہ مجھے نہیں ملے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے وہ کئی بار گزری مگر میرے اور اُس کے درمیان ایک فرشتہ اس طرح حائل ہو گیا کہ آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود وہ مجھے نہ دیکھ سکی۔ (1)
اُمّ جمیل انکھیاری ہوتے ہوئے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود حضور پر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس ہی سے تلاش کرتی ہوئی بار بار گزری مگر وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی۔ بلاشبہ یہ ایک عجیب بات ہے اور اس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معجزہ کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
ایک وہمی عورت کا حال
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ- (2)
ترجمہ :اور تم اس عورت کی طرح نہ ہوناجس نے اپنا سوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔
اس آیت میں فرمایا گیا تم اپنے معاہدے اور قسمیں توڑ کراس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے اپنا سوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔ مکہ مکرمہ میں ربطہ بنت عمرو نامی ایک عورت تھی جس کی طبیعت میں بہت وہم تھا اور عقل میں فتور، وہ دوپہر تک محنت کرکے سوت کاتا کرتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی اور دوپہر کے وقت اس کاتے ہوئے کو توڑ کر ریزہ ریزہ کرڈالتی اور باندیوں سے بھی تڑوا دیتی ،یہی اس کا معمول تھا۔(3)
[1] … خزائن العرفان، ص:۵۱۵
[2] … پ14، النحل:92
[3] … خازن، النحل، تحت الآیۃ:۹۲،۳/۱۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع