30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا: بَعْضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍۚ :تم آپس میں ایک ہی ہو۔
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم مردو عورت سب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرات حواء رضی اللہ عنہا کی اولاد ہی ہو ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اطاعت پر ثواب ملنے اور نافرمانی پر سزا ملنے میں تم سب ایک ہی ہو۔(1)
اس کے بعد فرمایا: ’’ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَ الْاَنْهٰرُۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ‘‘پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔
یعنی وہ لوگ جنہوں نے میرے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت کے لئے اپنے وطنوں سے ہجرت کی اور وہ مشرکوں کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں کے سبب اپنے ان گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے جہاں وہ پلے بڑھے تھے اور مجھ پر ایمان لانے اور میری وحدانیت کا اقرار کرنے کی وجہ سے انہیں مشرکوں کی طرف سے ستایا گیااورانہوں نے میری راہ میں کافروں کے ساتھ جہاد کیا اور شہیدکردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ان کے لئے اجر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔ (2)
ہجرت و شہادت کی فضیلت و سعادت مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی نصیب ہوئی چنانچہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا شہید ہوئیں اور حبشہ و مدینہ کی طرف خواتین نے بھی ہجرت فرمائی۔
باب :03
بری عورتیں
اس باب میں ان بری عورتوں کا ذکرہو گا جن کا تذکرہ قرآنِ مجید میں صراحت اور اشارے کے ساتھ ہے یا ان کا تذکرہ کسی آیت کی تفسیر میں مفسرین نے کیا ہے ۔
[1] … خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱/۳۳۸
[2] … روح البیان، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۲/۱۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع